بریکنگ نیوز
امریکا میں مسلمانوں کی بستی پر حملے کے منصوبہ ساز گرفتار - نیویارک سٹی: امریکا میں ایک مسلمان بستی اسلام برگ پر حملہ کرنے کی تیاری کرنے والے 4 امریکی نوجوانوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق گرفتار کیے جانے والوں میں 20 سالہ نوجوان برائن کولانیری، 18 سالہ دو نوجوان اینڈریو کرائیسیل اور ونسینٹ ویٹرومائل شامل ہیں۔ نوجوانوں کے ...5 ماہ سے جیل میں قید امام مسجدِ نبوی انتقال کرگئے - مدینہ : مسجد نبوی میں امامت کے فرائض انجام دینے والے معروف سعودی مبلغ اور مذہبی شخصیت شیخ احمد العماری حکومتی حراست میں انتقال کر گئے۔سعودی مبلغین اور مذہبی شخصیات کی گرفتاری پر نظر رکھنے والے سوشل میڈیا گروپ ’پرزنر آف کنسائس‘ کے مطابق شیخ احمد العماری جو مدینہ منورہ میں جامعہ اسلامی کے قرآن ...خدیجہ صدیقی کیس میں مجرم شاہ حسین کی بریت کا فیصلہ کالعدم، 7 سال قید کی سزا - اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی اقدام قتل کیس میں ملزم شاہ حسین کو مجرم قرار دیتے ہوئے اس کی بریت کا فیصلہ کالعدم کردیا اور 5 سال قید کی سزا بحال کردی۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے خدیجہ صدیقی ...ساہیوال متاثرین کو انصاف ملنے تک ان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں، نواز شریف - لاہور: سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ساہیوال متاثرین کو انصاف ملنے تک ان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نے ساہیوال واقعہ پر انتہائی رنج و غم کا اظہار کرتے پارٹی کو انصاف کی فراہمی تک متاثرین کا ساتھ دینے کی ہدایت کر ...ساہیوال واقعہ ،وزیراعظم عمران خان نے آئی پنجاب کو ہٹانے کا گرین سگنل دیدیا ، بڑا دعویٰ سامنے آ گیا - اسلام آباد : نجی ٹی وی ”  نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ساہیوال واقعہ کر مس ہینڈل کرنے پر آئی جی پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کیلئے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو گرین سگنل دے دیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق تین روز قبل سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے ساہیوال میں ...

طیبہ تشدد کیس میں سابق جج اور اہلیہ کو ایک ایک سال قید کی سزا

اسلام آباد: ہائیکورٹ نے کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان کو ایک ایک سال قید اور50 ہزار جرمانے کی سزا سنادی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے  کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کے مقدمے کا فیصلہ 27 مارچ 2018 کو محفوظ کیا تھا جسے اب سنادیا گیا ہے، جسٹس عامر فاروق نے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ دونوں مجرمان کمسن ملازمہ پر جسمانی تشدد میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اس لئے عدالت انہیں ایک ایک سال قید اور 50،50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سناتی ہے۔ فیصلہ سنائے جانے کے فوراً بعد پولیس نے سابق ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی اور ان کی اہلیہ ماہین ظفر کو گرفتار کرلیا۔سابق ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی اور ان کی اہلیہ ماہین ظفر کے خلاف اپنی کم سن گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کا واقعہ 27 دسمبر 2016 کو سامنے آیا تھا۔ دونوں ملزمان کے خلاف تھانہ آئی نائن میں مقدمہ درج کیا گیا تاہم بعد میں طیبہ کے والدین نے راجہ خرم اور اس کی اہلیہ کو معاف کردیا۔ راضی نامے کی خبر نشر ہونے پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے معاملے کا از خود نوٹس لیا، سپریم کورٹ کے حکم پر پولیس نے طیبہ کو بازیاب کراکے پیش کیا، بعدازاں عدالتی حکم پر 12 جنوری 2017کو راجہ خرم علی خان کو کام سے روک دیا گیا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے مقدمے کا ٹرائل اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھجوایا، 10فروری کو ایڈیشنل سیشن جج راجہ آصف علی نے ملزمان کی عبوری ضمانت کی توثیق کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے 16مئی 2017 کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی، مقدمے میں مجموعی طور پر 19 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے، گواہوں میں گیارہ سرکاری جبکہ طیبہ کے والدین سمیت 8 غیر سرکاری افرادشامل تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow